ابنا:اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کوفی عنان نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ شام کے حالات کے بارے میں اپنی رپورٹ پیش کی۔ کوفی عنان نے شام کے بارے میں سلامتی کونسل کے بیان اور جنرل اسمبلی کی قرارداد کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ شام میں جلد از جلد تشدد کا خاتمہ ہو اور وہاں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد بھیجی جائے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ کوفی عنان نے طاقتور اور بااثر ممالک سے اپیل کہ وہ شام میں تشدد کے خاتمے اور ان کے چھ نکاتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے کوشش کریں۔اقوام متحدہ کے ارکان کو کوفی عنان نے ایک ایسے موقع پر اپنی رپورٹ پیش کی کہ جب سلامتی کونسل نے بھی ایک بیان میں ان کے اقدامات کی حمایت کرنے کے ساتھ ہی ساتھ شام کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئندہ ارتالیس گھنٹے کے اندر جنگ بندی کی تجویز قبول کر لے اور بھاری ہتھیار شہروں سے نکال کر فوجی چھاؤنیوں میں لے جائے۔اہم بات یہ ہے کہ شام کی حکومت کی جانب سے کوفی عنان کے منصوبے کو قبول کرنے اور اس پر عمل درآمد کے وعدے کے باوجود حکومت مخالف گروہ اور مسلح افراد اپنی تشدد آمیز کارروائياں جاری رکھے ہوئے ہیں حتی کہ کوفی عنان نے بھی کہا ہے کہ شام کی حکومت نے انہیں خط ارسال کر کے اس بات یاد دہانی کرائی ہے کہ مسلح گروہ شام میں عوام کو قتل کرنے اور سرکاری عمارتوں اور املاک کو تباہ کرنے کی کارروائياں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ پس پردہ کچھ ایسے ہاتھ ہیں جو شام کے بحران کے پرامن حل کے لیے کوفی عنان کی کوششوں کو ناکام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس دوران شام کی حکومت کے مخالفین کے ساتھ بعض عرب ممالک اور مغرب کے تعاون اور انہیں ہتھیار فراہم کرنے کو بہت سے سیاسی حلقوں نے اس ملک میں بحران جاری رہنے کا اصل سبب قرار دیا ہے۔موجودہ حالات میں امریکہ کے علاوہ قطر اور سعودی عرب جیسے بعض ممالک نے بھی شام کی حکومت کے ساتھ دشمنی کا پرچم ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے اور وہ کوفی عنان کے راستے میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے پانچ اپریل کو ہونے والے اجلاس میں قطر سے تعلق رکھنے والے جنرل اسمبلی کے موجودہ صدر نے بھی ایک غیراخلاقی اور غیرسفارتی اقدام کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں شام کے نمائندے بشار جعفری کو تقریر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ امر شام کی حکومت کے ساتھ قطر کی گہری دشمنی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس وقت شام امریکہ، بعض یورپی ملکوں اور خلیج فارس کے جنوبی ممالک کی سازشوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔
شام کے خلاف کئی اجلاسوں کی میزبانی اور اس کے ساتھ ہی ساتھ شام کے مخالفین کو تسلیم کرنا اور ان کی مالی اور فوجی ضروریات کو پورا گزشتہ مہینوں کے دوران شام کے خلاف مغربی اور عرب محاذ کے اقدامات کا ایک حصہ ہے۔ان تمام باتوں کے باوجود کوفی عنان نے پانچ اپریل کو شام کے بارے میں اپنی رپورٹ میں شام کی حکومت اور مخالفین کے درمیان جنگ بندی پر عمل درآمد کی تاریخ اور اس کے بعد دونوں فریقوں میں مذاکرات کا اعلان کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ شامی حکومت کے مخالفین ان کے چھ نکاتی منصوبے کی پابندی کریں۔ کوفی عنان نے اسی طرح شام کے بحران کے پرامن حل کے بارے میں امید ظاہر کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ان کے منصوبے کی کامیابی کے لیے کوشش کرے۔ سلامتی کونسل کے دو مستقل ارکان روس اور چین نے اب تک کوفی عنان کی پرامن کوششوں کی حمایت کی ہے اور شام کی ارضی سالمیت اور سیاسی نظام کے اقتدار کی حفاظت پر زور دیا ہے۔........ /169